بنگلورو،9/اپریل(ایس او نیوز) شہر کی کشادگی کے اقدام کے طور پر بنگلور ترقیاتی انتظامیہ (بی ڈی اے) نے عظیم تر بنگلور شہری علاقہ کی ترقی انتظامیہ (بی ایم آر ڈی اے) کی جانب سے مجوزہ پانچ ساٹیلائٹ ٹاؤن شپس کو ترقی دینے پرغور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بی ڈی اے کے ایک اعلیٰ افسر نے ، نام کے اخفاء کی شرط پر بتایا کہ شہر میں جگہ کی تنگی چونکہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے، بہتر ترقی کا عمدہ راستہ صرف نئے ٹاؤن شپس کی تعمیر ہی ہے۔انہوں نے کہا کہ’’ہم نے بی ایم آر ڈی اے کے افسران کے ساتھ ان پانچ ٹاؤن شپس کو تمام بنیادی ضروریات کے ساتھ ترقی دینے کے سلسلہ میں تبادلہ خیال بلکہ ان کے ساتھ اشتراک عمل کا منصوبہ بنایا ہے۔بی ڈی اے نے اس معاملہ کو بھی نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان 2031 - میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔بی ایم آر ڈی اے نے نیل منگلہ، کنکا پور، ماگڑی، آنیکل اور ہسکوٹہ کے علاقوں میں پانچ ساٹیلائٹ ٹاؤن شپ کی تعمیر کا منصوبہ پیش کیا ہے۔مذکورہ بی ڈی اے افسر نے کہا کہ’’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وہ منصوبہ سست رفتاری کے ساتھ جاری ہے، اس کے علاوہ ماسٹر پلان کے مسودہ کی تیاری کے دوران جو عوامی مشاورتی اجلاس منعقد کئے گئے تھے ان میں عوام کی جانب سے بھی یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ بنگلور شہر کی ترقی کے پیش نظر شہر کے چاروں طرف ان علاقوں میں ٹاؤن شپس تک شہر کو وسعت دی جائے اور ہمارا بھی اسی رخ پر خیال جا رہا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ’’سروے رپورٹس نے واضح کیا ہے کہ اب شہر کے اندرونی علاقوں میں کوئی جگہ باقی نہیں رہ گئی ہے۔شہر کی ترقی بڑی ہی تیز رفتاری کے ساتھ عمل میں آرہی ہے اور اس ترقی کو رروکا نہیں جا سکتا۔شہر کی کشادگی کے لئے ریاستی وزراء بھی اسی خط پر غور کر رہے ہیں ‘‘۔اس کے علاوہ بی ڈی اے، ٹرانسپورٹ محکمہ سے بھی تبادلہ خیال کر رہا ہے کہ شہر کے مضافات اور ان ٹاؤن شپس تک ذرائع رسد کو کس طرح ترقی دی جا سکتی ہے اور اس کو ماسٹر پلان میں کیسے شامل کیا جانا چاہئے،تمام متبادلات اور ممکنات پر غور کیا جا رہا ہے۔مذکورہ افسر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ماسٹر پلان کی تیاری کے دوران ،قومی سبز کمیشن کی جانب سے متعین کردہ آبی ذخائر کے اطراف 75 میٹر کے بفر زون کا مکمل اہتمام کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ’’اگرچہ کہ ریاستی حکومت نے این جی ٹی کے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، ہم این جی ٹی کے احکام کا اہتمام ضرور کریں گے جب تک کہ عدالت عظمیٰ اپنا نیا فیصلہ صادر نہ کردے۔